کراچی( کامرس ڈیسک)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت اور فوری فوجی کارروائی نہ کرنے سے متعلق بیان ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 72 سینٹ، یعنی 0.7 فیصد کمی کے بعد 103.53 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 52 سینٹ، یعنی 0.6 فیصد کمی کے بعد 90.97 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کر رہا ہے اور 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔امریکی صدر کے بیان سے سرمایہ کاروں کو امید پیدا ہوئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور تیل کی ترسیل بہتر بنانے کے لیے کوئی راستہ نکل سکتا ہے، تاہم خطے میں جنگ کے خدشات اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔جمعرات کو مشرقِ وسطیٰ سے تیل لے جانے والے بحری جہازوں پر حملوں کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا تھا، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے بدستور خطرہ بنی ہوئی ہے۔امریکا نے ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبوں سے وابستہ افراد، نیٹ ورکس اور 17 بحری جہازوں پر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ دوسری جانب خلیجِ میکسیکو میں سمندری طوفان کے باعث امریکی تیل کی پیداوار متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں کا آئندہ انحصار ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات، آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی صورتِ حال اور خطے میں فوجی کشیدگی پر ہوگا۔