تازہ ترین
ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی کنٹرول یقینی بنایا جائے، شرمیلا فاروقی کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری حریم فاروق یونیورسٹی میں لباس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا شکار سعود قاسمی کا نادیہ خان پر شوبز میں تنازعات بڑھانے کا الزام شاہ ویر جعفری کی پہلی ٹی وی پرفارمنس، مداحوں کے دلچسپ تبصرے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبر مسترد کردی ورلڈکپ 2027، پاک بھارت میچ کیلئے ایک لاکھ 10 ہزار ٹکٹ درخواستیں گرلز ہاکی کی تربیت کیلئے دو غیرملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے حسن نواز کی ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں 62 درجے شاندار ترقی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری تسلیم کر رہے ہیں: وزیر خزانہ پنشن بچت کنندگان کیلئے کم لاگت سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ متعارف پاکستان جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کی مین لائن ون منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت زیلنسکی کا روس کی یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کا دعویٰ ایران کیخلاف جنگ، 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ سعودی کابینہ کا یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان خبر

اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس سے صارفین کی 53 تصاویر لیک

اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس سے صارفین کی 53 تصاویر لیک

 کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) اوپن اے آئی نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ایجنٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی 53 تصاویر لیک کر دیں جبکہ امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس تک بھی رسائی حاصل کی۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی کی جانب سے ایک اور غیر ارادی سیکیورٹی واقعے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے شعبے کی اہم شخصیات پہلے ہی اے آئی سے متعلق سیکیورٹی خطرات پر متعدد بار انتباہ کر چکی ہیں۔اوپن اے آئی نے جمعے کو بتایا کہ اس کے ایجنٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی 53 تصاویر لیک کیں۔ تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ مذکورہ تصاویر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تھیں یا حقیقی، جبکہ سیکیورٹی خلاف ورزی کے وقت کے بارے میں بھی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔اسی روز اوپن اے آئی نے تصدیق کی کہ اس کے بے قابو اے آئی ایجنٹس نے امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس تک بھی رسائی حاصل کی۔متاثرہ اداروں میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ تجارت شامل ہیں۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ تک ناکام رسائی کی ایک کوشش کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔