کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) اوپن اے آئی نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ایجنٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی 53 تصاویر لیک کر دیں جبکہ امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس تک بھی رسائی حاصل کی۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی کی جانب سے ایک اور غیر ارادی سیکیورٹی واقعے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے شعبے کی اہم شخصیات پہلے ہی اے آئی سے متعلق سیکیورٹی خطرات پر متعدد بار انتباہ کر چکی ہیں۔اوپن اے آئی نے جمعے کو بتایا کہ اس کے ایجنٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی 53 تصاویر لیک کیں۔ تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ مذکورہ تصاویر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تھیں یا حقیقی، جبکہ سیکیورٹی خلاف ورزی کے وقت کے بارے میں بھی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔اسی روز اوپن اے آئی نے تصدیق کی کہ اس کے بے قابو اے آئی ایجنٹس نے امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس تک بھی رسائی حاصل کی۔متاثرہ اداروں میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ تجارت شامل ہیں۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ تک ناکام رسائی کی ایک کوشش کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔