تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

ایس آئی ایف سی سے پاکستان عالمی سرمایہ کاری کا مرکزبن گیا

ایس آئی ایف سی سے پاکستان عالمی سرمایہ کاری کا مرکزبن گیا

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)ایس آئی ایف سی کی مؤثر سفارتی اور معاشی حکمتِ عملی کے نتیجے میں پاکستان عالمی سطح پر اسٹریٹجک شراکت داریوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ عالمی سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے ذریعے ملک میں تجارت، زراعت اور توانائی کے شعبوں کو مضبوط بنانے پر عملی پیش رفت جاری ہے۔اسی سلسلے میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان ایک اہم ملاقات منعقد ہوئی، جس میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، معدنیات، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات کے دوران پاکستان کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی معدنیاتی کانفرنس پراسپییکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا 2026 میں شرکت کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس کانفرنس کے ذریعے پاکستان کے معدنی وسائل کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے اجاگر کیا جائے گا جبکہ مقامی کان کنی کمپنیوں کو کینیڈین ماہرین سے رابطے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔