اسلام آباد(پاکستان خبر) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، تاہم خلیج کا بحران ایک مشکل مرحلے میں سامنے آیا ہے، دوست اور برادر ممالک کے تعاون سے خطے میں طویل مدتی امن کے حصول کی امید ہے۔وزیراعظم سے نیویارک میں امریکا کی بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈر اسٹینڈنگ اور امریکا پاکستان بزنس کونسل کے وفود نے ملاقات کی۔ وفود میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مالیات، مشروبات، مصنوعات سازی، ادویات اور نامیاتی مصنوعات سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ کاروباری شخصیات شریک تھیں۔شہباز شریف نے شرکاء کو کاروبار اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں سمیت مختلف شعبوں کی ترقی کیلئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بزنس کونسلز اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اہم پل کا کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان امریکا تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہو کر ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے، طویل مدتی علاقائی امن کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے نہایت اہم ہے۔ پاکستان میں ساختی اور پالیسی سطح پر وسیع اصلاحات جاری ہیں، معیشت کو ڈیجیٹل بنانے، ٹیکنالوجی اور برقی حکمرانی کے فروغ پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، مشینری اور جدید زرعی آلات کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، اخراجات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ کان کنی اور معدنیات بھی سرمایہ کاری کیلئے اہم شعبے ہیں اور پاکستان قدرتی معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، انہیں فنی تربیت اور مختلف مہارتیں فراہم کرکے روزگار کے مواقع سے جوڑا جا رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبے حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں اور جہاز رانی کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کی وسیع گنجائش موجود ہے، نجکاری حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری ہو چکی ہے اور نئے پاکستانی مالکان ادارے میں بہتری لائیں گے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی بھی نجکاری کی جا رہی ہے، حکومت کا بنیادی کردار نجی شعبے کیلئے کاروبار اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنا اور سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور بلال بن ثاقب، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار اور امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان احمد شیخ بھی شریک تھے۔