نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)افغان طالبان رجیم اور بھارت کے مبینہ تعلقات سے متعلق پاکستان کے مؤقف پر بھارتی وزارت خارجہ کے ردعمل نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔پاک فوج کے ترجمان کے بیان پر ایک صحافی کے سوال کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ کے نمائندے نے اسے مایوسی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی کوشش کی۔یاد رہے کہ افغان طالبان کے ایک وزیر نے بھارت کے دورے کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان اور بھارت کا ڈی این اے ایک جیسا ہے۔اپنی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ پاکستان کو معلوم ہے کہ افغان طالبان اور بھارت دہشتگردی کے فروغ کے معاملے میں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ انہوں نے دونوں کے تعلقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت اور افغان طالبان رجیم کے مفادات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا تھا کہ بھارت میں ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں اور کشمیری عوام کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ افغان طالبان رجیم پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ اپنے طرز عمل سے اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق خطے میں دہشتگردی، سیاسی اثر و رسوخ اور سکیورٹی معاملات کے حوالے سے پاکستان، بھارت اور افغانستان کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف گروہوں اور علاقائی طاقتوں کے کردار پر بین الاقوامی سطح پر بھی بحث جاری رہتی ہے۔پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ بعض شدت پسند گروہ افغان سرزمین پر موجود سہولت کاری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے افغان طالبان حکومت کے بیانات بھی دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تنازع کا باعث بنتے رہے ہیں۔
بھارت اور افغان طالبان رجیم کا گٹھ جوڑ فاش ہونے پر مودی سرکار کا نمائندہ تِلملا اٹھا
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں