تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ کا تاریخی دفاعی معاہدہ

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ کا تاریخی دفاعی معاہدہ

ر یا ض( مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کردیے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے شرکت کی۔ تینوں رہنماؤں نے تاریخی تعلقات، اسلامی اخوت، مشترکہ مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔قصر الصفا میں ہونے والے اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ معاہدے کا بنیادی مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت بڑھانا، باہمی سلامتی کو مضبوط بنانا اور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر بیرونی جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا، جبکہ دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں کو وسعت دینے، عسکری روابط بڑھانے، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی بھی شقیں شامل ہیں۔معاہدے کے پس منظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات تحریک خلافت کے دور تک پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ سیاسی، دفاعی، اقتصادی اور عوامی روابط موجود ہیں۔معاہدے کے مطابق تینوں ممالک کی مختلف دفاعی صلاحیتیں ایک دوسرے کی معاون ہوں گی۔ پاکستان کی عسکری قوت اور جنگی تجربہ، سعودی عرب کی معاشی و اسٹریٹجک اہمیت اور ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی و صنعتی صلاحیتیں مشترکہ سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گی۔تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی ریاست کے خلاف نہیں بلکہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس کا مقصد اجتماعی دفاع اور مؤثر دفاعی باز deterrence کے ذریعے ممکنہ جارحیت کی روک تھام، تنازعات کے امکانات کم کرنا اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔معاہدے میں اسے کسی ’’مسلم نیٹو‘‘ کے قیام یا ایٹمی ضمانت کے طور پر بھی پیش نہیں کیا گیا، بلکہ تینوں ممالک کے پہلے سے موجود دفاعی تعاون کو باقاعدہ قانونی شکل دینے اور مشترکہ سلامتی کے لیے خود انحصاری بڑھانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔اس موقع پر پاکستان کی علاقائی سفارت کاری اور مختلف ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کو بھی اہم قرار دیا گیا، جبکہ عسکری تیاری کے ساتھ سفارتی کوششوں اور اسٹریٹجک تحمل کو علاقائی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔معاہدے سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگیدفاعی معاہدے پر دستخط سے قبل تینوں ممالک کی قیادت نے مکہ مکرمہ میں نماز جمعہ ادا کی۔ نماز میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شریک ہوئے۔اس موقع پر خطے میں امن، استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔