تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

پاکستان کی قبل ازوقت قرض ادائیگی 6 ہزار ارب تک پہنچ گئی

پاکستان کی قبل ازوقت قرض ادائیگی 6 ہزار ارب تک پہنچ گئی

کراچی ( کامرس ڈیسک)مؤثر مالیاتی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان مالی نظم و ضبط کے ذریعے معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کر رہا ہے۔مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان اب تک تقریباً 5 ہزار 920 ارب روپے کا قرض مقررہ مدت سے قبل ادا کرچکا ہے، جس سے قبل ازوقت قرض ادائیگی کا مجموعی حجم 6 ہزار ارب روپے کے قریب پہنچ گیا ہے۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے اگست 2025ء میں قبل ازوقت قرض ادائیگی کے 1 ہزار 133 ارب روپے کے سابقہ ریکارڈ کو بھی عبور کرلیا ہے۔ مالی سال 2025-26ء کے دوران اب تک مجموعی طور پر 2 ہزار 900 ارب روپے کا قرض مقررہ وقت سے پہلے ادا کیا گیا۔خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2026-27ء میں بھی اب تک مزید 1 ہزار 200 ارب روپے کا قرض قبل ازوقت ادا کیا جاچکا ہے۔ ان ادائیگیوں کے نتیجے میں مجموعی قرض میں کمی آئے گی اور آنے والے برسوں میں بڑے قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ بھی کم ہوگا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا قرض کے انتظام کا نظام اب روایتی ادائیگیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سرکاری مالیاتی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔