اسلام آباد( کامرس ڈیسک) ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی صورتِ حال سے متعلق رپورٹ جاری کردی، جس میں مسلسل اصلاحات اور مضبوط زرِمبادلہ ذخائر کو معاشی استحکام میں معاون قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان کی معاشی کارکردگی میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ شرحِ نمو مالی سال 2025ء کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 3.7 فیصد ہوگئی۔ خدمات اور صنعتی شعبوں میں بحالی کے ساتھ زراعت میں بھی بہتری آئی، تاہم مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے مالی سال کی آخری سہ ماہی میں معاشی سرگرمی متاثر کی۔اے ڈی بی نے مالی سال 2027ء میں بھی شرحِ نمو 3.7 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ رپورٹ میں معاشی اصلاحات، مضبوط زرِمبادلہ ذخائر اور عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق بہتر خود مختار کریڈٹ درجہ بندی سے نجی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ہے، تاہم مہنگی توانائی اور عالمی غیر یقینی صورتِ حال معاشی نمو کی رفتار محدود کرسکتی ہے۔اے ڈی بی کے مطابق مالی سال 2026ء میں مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کی توسیع سے معیشت کو تقویت ملی، جبکہ سیلاب کے باوجود زراعت میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا۔ شرحِ سود میں کمی اور کاروباری اعتماد بہتر ہونے سے نجی سرمایہ کاری 8.6 فیصد بڑھی۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026ء میں مالیاتی استحکام کا عمل جاری رہا اور مجموعی بین الاقوامی زرِمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا۔ بہتر معاشی استحکام اور مضبوط بیرونی ذخائر کے باعث ایس اینڈ پی نے جولائی جبکہ موڈیز نے اگست 2026ء میں پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی۔پاکستان نے اپریل اور مئی 2026ء میں یورو بانڈز اور پانڈا بانڈز جاری کرکے عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی بھی حاصل کی۔اے ڈی بی کے مطابق مالی سال 2026ء میں اوسط مہنگائی 7.1 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال 4.5 فیصد تھی، جبکہ مالی سال 2027ء میں مہنگائی 8.3 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں شدت سے توانائی کی درآمدی لاگت اور مہنگائی بڑھ سکتی ہے، جبکہ خلیجی معیشتوں کے متاثر ہونے سے ترسیلاتِ زر بھی کم ہوسکتی ہیں۔اے ڈی بی نے کہا کہ حکومتی کفایت شعاری، عالمی مالی حالات میں سختی، ٹیکس محاصل میں کمی، موسمیاتی تبدیلیوں سے زرعی نقصانات اور توانائی اصلاحات میں تاخیر معاشی نمو کے لیے خطرات ہیں۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے اور مالی و بیرونی استحکام مضبوط بنانے کیلئے اصلاحات کا تسلسل انتہائی اہم ہے۔