تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

پاکستان کو بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، مالی سال میں 5.86 ارب ڈالر کی مالی معاونت

پاکستان کو بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، مالی سال میں 5.86 ارب ڈالر کی مالی معاونت

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان کو ملنے والے نئے بیرونی قرضوں میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 18 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق جولائی سے فروری کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 5.86 ارب ڈالر کی بیرونی مالی معاونت ملی، جس میں 5.76 ارب ڈالر کے نئے قرضے اور 9 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کی گرانٹس شامل ہیں۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں قرضوں میں 91 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر کی قسط شامل ہونے سے حجم بڑھ کر 6.76 ارب ڈالر ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال حکومت نے یومیہ بنیاد پر تقریباً 7.86 ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے، جس کی پاکستانی کرنسی میں مالیت 1904 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر، چین نے ایک ارب ڈالر کا قرض رول اوور کیا، جبکہ پہلے آٹھ ماہ میں مختلف عالمی مالیاتی اداروں نے 2.37 ارب ڈالر فراہم کیے۔نئے پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت بھی 1.76 ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے، عالمی بینک نے 72 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے 66 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی۔اسلامی ترقیاتی بینک نے مختصر مدت کے لیے 48 کروڑ ڈالر سے زائد قرض فراہم کیا، جبکہ مختلف دوست ممالک نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے زائد کی مالی معاونت دی۔ماہرین کے مطابق یہ مالیاتی امداد ملکی اقتصادی استحکام کے لیے اہم ہے، تاہم بڑھتے ہوئے قرضوں کے حجم پر محتاط پالیسی کی ضرورت ہے۔