کراچی( کامرس ڈیسک)پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں 0.3 فیصد اضافے سے 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی پہلی سالانہ برآمدی کارکردگی رپورٹ کے مطابق مجموعی قومی برآمدات 5.9 فیصد کمی کے بعد 30.14 ارب ڈالر رہیں، جبکہ ملکی برآمدات میں ٹیکسٹائل شعبے کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق برآمدات میں اضافہ بنیادی طور پر ملبوسات اور گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کی بدولت ہوا، جن کی برآمدات 1.1 فیصد بڑھ کر 14.98 ارب ڈالر ہوگئیں اور ٹیکسٹائل برآمدات میں ان کا حصہ 83.2 فیصد رہا۔ غیر بنے ملبوسات کی برآمدات 3.9 فیصد اضافے سے 4.295 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں، جبکہ گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات 5.705 ارب ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا واحد شعبہ رہیں۔دوسری جانب خام مال اور درمیانی مصنوعات کی برآمدات 3.4 فیصد کمی سے 3.03 ارب ڈالر رہیں، جو 5 سال کی کم ترین سطح ہے، جبکہ نِٹ ویئر کی برآمدات بھی 0.7 فیصد کمی سے 4.979 ارب ڈالر ہوگئیں۔یورپی یونین 7.103 ارب ڈالر کے ساتھ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی رہی، جبکہ امریکا کو برآمدات 4.853 ارب، برطانیہ کو 1.730 ارب، چین کو 644 ملین اور بنگلا دیش کو 620 ملین ڈالر رہیں۔پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد حسن شفقت نے کہا کہ معمولی برآمدی اضافہ عالمی مسابقت برقرار رکھنے کی صلاحیت ظاہر کرتا ہے، تاہم کپاس کی کم پیداوار باعث تشویش ہے۔ گزشتہ سیزن میں کپاس کی پیداوار 5.5 ملین گانٹھ رہی، جو 3 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے، جبکہ 2011-12 میں یہ 14.8 ملین گانٹھ کی بلند ترین سطح پر تھی۔کونسل نے برآمدی مسابقت بہتر بنانے کے لیے ٹیکس میں کمی، ریفنڈز کی تیز ادائیگی، مسابقتی توانائی نرخ، بہتر مالی سہولیات، چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو قرضوں تک آسان رسائی، جی ایس پی پلس کا تسلسل اور امریکا و برطانیہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں سمیت 11 سفارشات پیش کی ہیں۔ کپاس کے شعبے کے لیے معیاری بیج، کسانوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن اور پیداوار کا سراغ رکھنے پر مبنی قومی حکمت عملی کی بھی تجویز دی گئی ہے