واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ سابق امریکی فوجی افسر ندال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے ندال حسن کی سزائے موت کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منظوری دے چکے ہیں۔ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکا میں پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔سزائے موت کے قیدیوں کے مقدمات پر کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا ہے کہ سزائے موت کی کارروائی براہِ راست نشر کرنے کے فیصلے کی جدید دور میں کوئی مثال نہیں ملتی، جبکہ قانونی اعتبار سے بھی یہ ایک غیر واضح معاملے پر کیا گیا اقدام ہے۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے قدامت پسند ٹی وی چینل ریئل امریکا وائس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لوگ یہ کارروائی دیکھ سکیں اور اسے عوامی بنایا جائے۔ ان کے مطابق لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ہیگستھ نے کہا کہ حسن کو فوجی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔پینٹاگون نے رواں ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ حسن کو سزائے موت دی جائے گی۔ یہ 60 برس سے زائد عرصے میں امریکی فوج کی پہلی سزائے موت ہوگی۔امریکی فوج کے میجر اور معالج ندال ملک حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک اور 32 دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سزائے موت کی سفارش کی تھی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظور کر لیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد یہ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔حسن کو 13 افراد کے قتلِ عمد اور 32 افراد کے قتل کی کوشش کے الزامات میں فوجی افسران پر مشتمل 13 رکنی جیوری نے مجرم قرار دیا تھا۔ جیوری نے متفقہ طور پر انہیں سزائے موت دینے کی سفارش کی تھی۔