تازہ ترین
ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی کنٹرول یقینی بنایا جائے، شرمیلا فاروقی کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری حریم فاروق یونیورسٹی میں لباس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا شکار سعود قاسمی کا نادیہ خان پر شوبز میں تنازعات بڑھانے کا الزام شاہ ویر جعفری کی پہلی ٹی وی پرفارمنس، مداحوں کے دلچسپ تبصرے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبر مسترد کردی ورلڈکپ 2027، پاک بھارت میچ کیلئے ایک لاکھ 10 ہزار ٹکٹ درخواستیں گرلز ہاکی کی تربیت کیلئے دو غیرملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے حسن نواز کی ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں 62 درجے شاندار ترقی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری تسلیم کر رہے ہیں: وزیر خزانہ پنشن بچت کنندگان کیلئے کم لاگت سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ متعارف پاکستان جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کی مین لائن ون منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت زیلنسکی کا روس کی یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کا دعویٰ ایران کیخلاف جنگ، 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ سعودی کابینہ کا یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان خبر

ملک میں پیٹرول، ڈیزل ذخائر کم، بحران کا خدشہ، او سی اے سی کا خط

ملک میں پیٹرول، ڈیزل ذخائر کم، بحران کا خدشہ، او سی اے سی کا خط

کراچی( کامرس ڈیسک) ملک میں ایندھن کے محدود ذخائر کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے وفاقی وزیر پیٹرولیم اور چیئرمین اوگرا کو ہنگامی خط لکھ کر صورتحال سے آگاہ کردیا۔او سی اے سی کے مطابق ملک میں پیٹرول کا ذخیرہ صرف 18 دن جبکہ ڈیزل کا 27 دن کے لیے باقی رہ گیا ہے۔ تیل کی درآمد کے لیے دستیاب سرمایہ کم ہونے کے باعث کمپنیوں کے لیے مطلوبہ ذخائر برقرار رکھنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔کونسل نے بتایا کہ حکومت کے ذمے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے 66 ارب 70 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ یہ رقم قیمتوں کے فرق کے دعووں اور کمپنیوں کے منافع کی مد میں رکی ہوئی ہے، جس سے ان کی مالی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔او سی اے سی کے مطابق کمپنیاں اپنے موجودہ ذخیرے سے پیٹرول اور ڈیزل فروخت کرکے بینکوں اور تیل فراہم کرنے والوں کو ادائیگیاں کررہی ہیں۔ حکومت کے ذمے واجب الادا رقم تقریباً 5 پیٹرول کارگوز کی مالیت کے برابر ہے۔کونسل کے جنرل سیکریٹری ناظر عباس زیدی نے کہا کہ واجبات کی ادائیگی 15 روز میں کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن 6 ماہ گزرنے کے باوجود رقم ادا نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اوگرا میں بھی معاملے پر مناسب پیش رفت نہیں ہورہی۔او سی اے سی نے مطالبہ کیا ہے کہ اوگرا فوری طور پر زیر التوا دعووں کی رقم جاری کرے تاکہ کمپنیوں کو درپیش مالی مشکلات کم ہوں اور پیٹرول و ڈیزل کی درآمد متاثر نہ ہو۔کونسل نے مزید کہا کہ تیل ڈیلروں کے منافع میں اضافہ کیا جاچکا ہے، تاہم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا فی لیٹر 1.22 روپے کا منافع اب تک نہیں بڑھایا گیا۔