تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

وزیراعظم کا ٹیکس ہدف کیلئے ایف بی آر کے نفاذی اقدامات تیز کرنے کا حکم

وزیراعظم کا ٹیکس ہدف کیلئے ایف بی آر کے نفاذی اقدامات تیز کرنے کا حکم

اسلام آباد( پاکستان خبر) وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نفاذی اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کردی۔وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیراعظم نے ٹیکس اصلاحات پر کاروباری برادری کے بڑھتے اعتماد کا خیرمقدم بھی کیا۔شہباز شریف نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور اعلیٰ افسران ہر ماہ کراچی کے ساتھ لاہور میں بھی دو روز قیام کریں۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ محصولات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے نفاذی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور اسمگلنگ، ٹیکس چوری و غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔وزیراعظم نے چکوال اور صوابی میں سگریٹ کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف ایف بی آر کی کارروائیوں کو سراہا۔ انہوں نے ایف بی آر کے تمام حساس عہدوں اور شعبوں میں اچھی شہرت رکھنے والے دیانتدار افسران و اہلکار تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعظم نے اندرون ملک محصولات کے لیے مجوزہ غیرملاقاتی نظام کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس نظام کا مکمل نفاذ 2027 تک یقینی بنایا جائے۔