پشاور (پاکستان خبر) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، جبکہ صوبے کے 12 اضلاع میں پہلے مرحلے میں ایمرجنسی لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنرز اور سیکریٹریز سمیت انتظامی تبدیلیوں سے متعلق تیاری مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کی تعیناتیوں کے لیے فہرست بھی تیار کرلی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ اپوزیشن اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی سے مشروط ہے۔ پاکستان تحریک انصاف سمیت اپوزیشن اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں کیا جائے گا۔اسلام آباد میں اہم اجلاس متوقعخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کے پیش نظر وفاقی کابینہ کے ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس جلد طلب کیے جانے کا امکان ہے۔اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے، جبکہ قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔پی ٹی آئی کا ہنگامی اجلاس طلبدوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنی مرکزی اور کور کمیٹی کے اجلاس طلب کرلیے ہیں، جو پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوں گے۔ اجلاس میں پارٹی کی سینئر قیادت بھی شرکت کرے گی۔اجلاس کی صدارت چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کریں گے، جبکہ اسد قیصر، عاطف خان، جنید اکبر اور دیگر رہنماؤں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں لانگ مارچ، حکومت سے مذاکرات اور خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ وہ اجلاس میں شرکت کے لیے پشاور روانہ ہوگئے ہیں۔