تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ

طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال مکمل ہونے پر کینیڈا، جرمنی، نیدرلینڈز سمیت مختلف ممالک کے 24 شہروں میں افغان باشندوں نے احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالیں۔جرمنی کے بون، میونخ، اسٹٹ گارٹ، ہیمبرگ، برلن، کیل، فرینکفرٹ، کولون اور ڈسلڈورف سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کیا گیا، جبکہ سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، فن لینڈ، ناروے، آسٹریا، سویڈن، اسپین، پاکستان، کینیڈا اور امریکا میں بھی افغان باشندوں نے مظاہرے کیے۔مختلف مقامات پر مظاہرین نے طالبان کے خلاف نعرے لگائے، احتجاجی کیمپ قائم کیے، پٹیشن مہم چلائی اور بعض جگہوں پر بھوک ہڑتال بھی کی۔مظاہرین نے طالبان حکومت سے تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتے ہوئے خواتین کے حقوق، آزادیٔ اظہار و صحافت اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ ٹورنٹو کے کوئینز پارک میں ہونے والے احتجاج میں طالبان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ایمسٹرڈیم میں مظاہرین نے نیدرلینڈز اور یورپی یونین سے طالبان کو تسلیم نہ کرنے جبکہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاج کرنے والوں نے طالبان حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔جرمنی کے اسٹٹ گارٹ اور ہیمبرگ میں مظاہرین نے ’’روٹی، کام، آزادی‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے عالمی برادری اور جرمن حکومت سے طالبان کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔مبصرین کے مطابق مختلف ممالک میں طالبان حکومت کے خلاف احتجاجی سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ افغان باشندوں کا ایک حلقہ خواتین کے حقوق اور دیگر بنیادی آزادیوں کے معاملے پر طالبان کی پالیسیوں سے ناخوش ہے۔