اسلام آباد( ویب ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز سے متعلق 2012 کے قواعد ختم کردیئے ہیں، جس کے بعد ان کمپنیوں کیلئے نئے ضابطہ کار کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔نئے پالیسی فریم ورک 2025 کے تحت موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز کو لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ سپیکٹرم کے مالک نہ ہونے والی کمپنیاں بھی موبائل اور جدید نسل کی مواصلاتی خدمات فراہم کرسکیں گی۔نئے لائسنس کی مدت 15 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ فیس ایک لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر ہوگی۔ لائسنس حاصل کرنے والی کمپنی کا سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز کو اپنا برانڈ، صارفین کیلئے خدمات اور بلنگ کا نظام چلانے کی اجازت ہوگی، تاہم ایک سال کے اندر خدمات شروع نہ کرنے کی صورت میں لائسنس منسوخ کیا جاسکے گا۔قواعد کے مطابق خدمات کے معیار اور قومی سلامتی سے متعلق تمام تقاضے پورے کرنا آپریٹرز کی ذمہ داری ہوگی۔ خدمات بند کرنے کیلئے کم از کم تین ماہ قبل اطلاع دینا اور پی ٹی اے سے منظوری لینا ضروری ہوگا۔موبائل نمبروں کی منتقلی اور نمبرز کی فراہمی کی ذمہ داری متعلقہ ٹیلی کام کمپنی اور موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر مشترکہ طور پر ادا کریں گے۔
پی ٹی اے نے ایم وی این اوز کیلئے نیا ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی