تازہ ترین
ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی کنٹرول یقینی بنایا جائے، شرمیلا فاروقی کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری حریم فاروق یونیورسٹی میں لباس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا شکار سعود قاسمی کا نادیہ خان پر شوبز میں تنازعات بڑھانے کا الزام شاہ ویر جعفری کی پہلی ٹی وی پرفارمنس، مداحوں کے دلچسپ تبصرے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبر مسترد کردی ورلڈکپ 2027، پاک بھارت میچ کیلئے ایک لاکھ 10 ہزار ٹکٹ درخواستیں گرلز ہاکی کی تربیت کیلئے دو غیرملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے حسن نواز کی ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں 62 درجے شاندار ترقی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری تسلیم کر رہے ہیں: وزیر خزانہ پنشن بچت کنندگان کیلئے کم لاگت سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ متعارف پاکستان جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کی مین لائن ون منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت زیلنسکی کا روس کی یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کا دعویٰ ایران کیخلاف جنگ، 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ سعودی کابینہ کا یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان خبر

پی ٹی اے نے ایم وی این اوز کیلئے نیا ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا

پی ٹی اے نے ایم وی این اوز کیلئے نیا ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا

اسلام آباد( ویب ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز سے متعلق 2012 کے قواعد ختم کردیئے ہیں، جس کے بعد ان کمپنیوں کیلئے نئے ضابطہ کار کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔نئے پالیسی فریم ورک 2025 کے تحت موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز کو لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ سپیکٹرم کے مالک نہ ہونے والی کمپنیاں بھی موبائل اور جدید نسل کی مواصلاتی خدمات فراہم کرسکیں گی۔نئے لائسنس کی مدت 15 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ فیس ایک لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر ہوگی۔ لائسنس حاصل کرنے والی کمپنی کا سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز کو اپنا برانڈ، صارفین کیلئے خدمات اور بلنگ کا نظام چلانے کی اجازت ہوگی، تاہم ایک سال کے اندر خدمات شروع نہ کرنے کی صورت میں لائسنس منسوخ کیا جاسکے گا۔قواعد کے مطابق خدمات کے معیار اور قومی سلامتی سے متعلق تمام تقاضے پورے کرنا آپریٹرز کی ذمہ داری ہوگی۔ خدمات بند کرنے کیلئے کم از کم تین ماہ قبل اطلاع دینا اور پی ٹی اے سے منظوری لینا ضروری ہوگا۔موبائل نمبروں کی منتقلی اور نمبرز کی فراہمی کی ذمہ داری متعلقہ ٹیلی کام کمپنی اور موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر مشترکہ طور پر ادا کریں گے۔