اسلام آباد( ویب ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے تفصیلی جواب میں کہا ہے کہ ادارے کے پاس 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے یا تمام پلیٹ فارمز پر عمر کی لازمی تصدیق نافذ کرنے کا قانونی اختیار موجود نہیں۔پی ٹی اے کے مطابق پیکا 2016 کی دفعہ 37 کے تحت صرف غیر قانونی آن لائن مواد کو مسدود یا ہٹانے کی اجازت ہے۔ ادارے نے مؤقف اختیار کیا کہ بچوں کو انٹرنیٹ کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے جامع قانونی اور پالیسی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔تفصیلی جواب میں بتایا گیا کہ پیکا ترمیمی قانون 2025 کے تحت سوشل میڈیا تحفظ و ضابطہ اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے، جو غیر قانونی مواد اور جعل سازی سے متعلق شکایات پر کارروائی کرے گی۔ سائبر جرائم اور قابل اعتراض مواد کے خلاف کارروائی کا اختیار اب قومی سائبر جرائم تفتیشی ادارے کے دائرے میں ہے۔پی ٹی اے کے مطابق اب تک 17 لاکھ 89 ہزار سے زائد غیر قانونی آن لائن روابط اور ویب پتے جانچے جاچکے ہیں، جبکہ 15 لاکھ 77 ہزار سے زائد غیر قانونی روابط کو مسدود کیا گیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آن لائن مواد کو روکنے کی مجموعی شرح 88.20 فیصد رہی۔اعداد و شمار کے مطابق ٹک ٹاک کے 88.68 فیصد، یوٹیوب کے 87.34 فیصد اور فیس بک کے 78.57 فیصد روابط کے خلاف کارروائی کی گئی۔ انسٹاگرام پر 79.52 فیصد جبکہ ایکس پر 48.42 فیصد روابط مسدود کیے گئے۔پی ٹی اے نے بتایا کہ قابل اعتراض مواد سے متعلق 10 لاکھ 66 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور روابط بند کیے گئے۔ اسلام مخالف مواد کے حوالے سے 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد جبکہ ملکی سلامتی کے خلاف مواد پر مشتمل 46 ہزار سے زیادہ روابط کو بھی مسدود کیا گیا۔ادارے کے مطابق بیشتر سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں اور نہ ہی مقامی قوانین کی پابند ہیں، جبکہ تکنیکی رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ محفوظ مواصلاتی نظام کے باعث کسی ایک مواد کو الگ سے مسدود کرنا ممکن نہیں، جس کے نتیجے میں بعض اوقات پوری ویب سائٹ بند کرنا پڑتی ہے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے پاکستان میں مقامی ضابطوں کی پابندی اور شکایات کے ازالے کے لیے افسر مقرر کرنے کی درخواست کی گئی، تاہم تاحال اس پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ادارے کے مطابق بچوں کے تحفظ کے لیے یونیسیف، ٹک ٹاک، میٹا اور جی ایس ایم اے کے اشتراک سے آگاہی مہمات بھی جاری ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن تشدد اور استحصال کی شکایات کے لیے مفت امدادی نمبر 1121 فعال کیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی صارفین کے لیے انسٹاگرام پر نوعمر صارفین کے حفاظتی فیچر بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔پی ٹی اے نے عدالت سے استدعا کی کہ ادارے کے قانونی دائرہ اختیار سے باہر مطلوبہ ریلیف کی حد تک درخواست مسترد کی جائے۔ وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت داخلہ اور قومی کمیشن برائے حقوق اطفال نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے جوابات جمع کرا دیے ہیں۔