جرمن یونیورسٹی میں پنجاب یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد کی پروپیگنڈہ مواد کی شناخت پر تربیتی ورکشاپ
لاہور: پنجاب یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور سینئر پبلک ریلیشنز آفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد نے بیلیفیلڈ یونیورسٹی جرمنی کی دعوت پر سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور مائیگریشن کے موضوع پر بطور ریسورس پرسن خصوصی تربیتی ورکشاپ جرمنی میں منعقد کی، جس میں بیلیفیلڈ یونیورسٹی کے ورلڈ پولیٹکس پر ریسرچ ٹریننگ گروپ کے ڈاکٹر اکثکل، بی ایس اور ماسٹرز پروگرامز کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
25 ہزار سٹوڈنٹس پر مشتمل بیلیفیلڈ یونیورسٹی جرمنی کی اہم سرکاری یونیورسٹی ہے جو جرمنی کی 20 بہترین یونیورسٹیوں میں شمار پوتی ہے۔
بیلیفیلڈ یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر خرم شہزاد کو بطور ماہر سوشل میڈیا پر ہجرت کے حوالے سے جعلی خبروں کے ظہور، پھیلاو کے عوامل اور اثرات پر ٹریننگ ورکشاپ کے لئے دعوت دی گئی تھی۔
ورکشاپ میں فیک نیوز کی شناخت کے حوالے سے زیرِ بحث لائے گئے طریقۂ کار ڈاکٹر خرم شہزاد کی پاکستان میں مکمل کی گئی پی ایچ ڈی تحقیق اور اس تحقیق کے دوران وضع کیے گئے 11 سائنسی اشاریوں کے ماڈل پر مبنی ہیں۔ بیلیفیلڈ یونیورسٹی کی جانب سے اسی تحقیقی کام کی روشنی میں انہیں جرمنی مدعو کیا جانا پاکستانی جامعات میں ہونے والی تحقیق کے بین الاقوامی علمی سطح پر اعتراف کی ایک مثال ہے۔
ورکشاپ کے دوران ڈاکٹر خرم شہزاد نے طلبہ کو سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز کی شناخت، معلومات کی تصدیق، گمراہ کن مواد کے مختلف پہلوؤں اور بالخصوص مائیگریشن سے متعلق فیک نیوز کے سماجی اثرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ کو یہ بھی بتایا کہ غلط اور غیر مصدقہ معلومات کس طرح مائیگریشن جیسے حساس مسئلے کے بارے میں عوامی رائے، سماجی تصورات اور پالیسی مباحث کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ڈاکٹر خرم شہزاد کے مطابق فیک نیوز کی شناخت کے سائنسی تحقیقی طریقوں سے آگاہی طلبہ کو نہ صرف غلط معلومات سے بچنے میں مدد دیتی ہے بلکہ مائیگریشن جیسے اہم سماجی معاملات کے بارے میں زیادہ ذمہ دارانہ اور معلومات پر مبنی فہم پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر خرم شہزاد نے جرمنی کی پاکستان میں سفیر اینا لیپل کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی اور پاکستان کے درمیان تعلیمی و تحقیقی روابط کو فروغ دینے کے لیے ان کی معاونت قابلِ قدر ہے۔
انہوں نے بیلیفیلڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر اکثکل کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہا کہ جامعات کے درمیان براہِ راست علمی و تحقیقی تعاون سے دونوں ممالک کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کی جامعات کے درمیان باہمی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنا کر ایسی علمی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو دونوں ممالک کو درپیش مشترکہ سماجی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے نئے راستے فراہم کریں۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر اکثکل نے کہا کہ مائیگریشن اور مہاجرین بھی ایسا ہی ایک اہم معاملہ ہے، جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز اور گمراہ کن معلومات معاشروں میں غلط فہمیوں کو جنم دے سکتی ہیں اور قومی پالیسوں کے بنانے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے پاس صلاحیت ہو کہ ہم پروپیگنڈہ مواد کی سائنسی طریقے سے جانچ کر سکیں۔
ورکشاپ میں مائیگریشن سے متعلق جرمنی میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں کو نمونے کے طور پر پیش کر کے ان کی شناخت کے آسان طریقوں پر سوال و جواب کا ایک طویل سیشن ہوا۔