دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر نے ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے فوری بند کرنے اور عالمی جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بحران کا واحد حل مذاکرات اور پُرامن سفارت کاری ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے شعبۂ ابلاغ و مواصلات کے ڈائریکٹر ابراہیم بن سلطان الہاشمی نے کہا کہ بحران کا جلد پُرامن حل نکلنا خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے، کیونکہ کشیدگی کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری جہاز رانی کی آزادی کا احترام کرے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی آمدورفت کے لیے کھلا رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں حملے اور رکاوٹیں پورے خطے اور اس کے عوام کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔قطری عہدیدار نے خبردار کیا کہ خطے میں انٹرنیٹ کی بندش کے اثرات تمام ممالک پر مرتب ہوں گے اور ایران بھی اس سے بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے کی سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ قطر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے تاکہ دونوں فریقوں کے تحفظات دور کرکے بحران کا پائیدار حل نکالا جاسکے۔واضح رہے کہ قطر اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھولنے اور سمندری راستوں پر آزادانہ آمدورفت برقرار رکھنے پر زور دے چکا ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔