ماسکو( مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر خطرات بھی سنگین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس کے پیش نظر روس اپنی ڈیجیٹل خودمختاری اور سائبر سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔سائبر سکیورٹی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ریاست اور معاشرے کی پائیدار ترقی بڑی حد تک جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے وابستہ ہے، اسی لیے سائبر سکیورٹی روس کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ روس کو معیشت، رسد، نقل و حمل، سماجی خدمات، شہری بنیادی سہولتوں اور سرکاری انتظامی نظام سمیت مختلف شعبوں میں براہِ راست اور بالواسطہ بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسی صورتحال میں ملک کے ڈیجیٹل تحفظ کے تمام شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔صدر پوتن کے مطابق روس غذائی تحفظ اور توانائی کی سلامتی سے لے کر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے تک ہر شعبے میں اپنی خودمختاری کو مسلسل مستحکم کر رہا ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو خطرات کی جانچ اور تجزیے، غیر ملکی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انحصار کی نگرانی اور سائبر حملوں کا فوری جواب دینے کی صلاحیت بہتر بنانے کی ہدایت کی۔روسی صدر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سکیورٹی ایجنسیوں، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان رابطوں اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ روس اپنی معیشت اور سماجی شعبے کے لیے منظم انداز میں ڈیجیٹل ڈھانچہ تیار کر رہا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ڈیٹا محفوظ کرنے، اس پر کارروائی کرنے اور اسے منتقل کرنے کے لیے جدید نظام بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
سائبر خطرات میں اضافہ، روس ڈیجیٹل خودمختاری مزید مستحکم کرے گا، پوتن
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں