تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

پاکستان کا طیارہ مار گرائے جانے کی افواہ سوشل میڈیا پر وائرل، دعویٰ غیر تصدیق شدہ ہے:پاکستان

پاکستان کا طیارہ مار گرائے جانے کی افواہ سوشل میڈیا پر وائرل، دعویٰ غیر تصدیق شدہ ہے:پاکستان

اسلام آباد( پاکستان خبر)پاکستان اور افغانستان کی سرحدی کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے کہ افغان فورسز نے پاکستان کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا اور پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ مختلف پوسٹس میں کہا گیا کہ طیارہ ایف-16 یا جے ایف-17 ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ ویڈیوز اور تصاویر کو اس واقعے کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔تاہم افغان میڈیا ادارے ٹولو نیوز نے 27 فروری 2026 کو رپورٹ کیا کہ افغان فورسز نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک پاکستانی طیارے کو نشانہ بنایا، مگر رپورٹ میں طیارے کی قسم یا تباہی کی کوئی واضح تفصیل شامل نہیں کی گئی۔ماہرین کے مطابق اس وقت تک یہ دعویٰ غیر تصدیق شدہ ہے اور پاکستان یا افغان حکام کی طرف سے اس پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات پر محتاط رہنے اور مستند ذرائع سے تصدیق کرنے کی ضرورت ہے۔