لاہور (پاکستان خبر) روس کی وزارت برائے ہنگامی امور و آفات سے متعلق اعلیٰ سطح کے وفد نے پنجاب ایمرجنسی سروسز کے مرکزی دفتر اور اکیڈمی کا دورہ کیا، جہاں وفد نے سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر سے خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات میں ہنگامی حالات سے نمٹنے، باہمی تعاون کو فروغ دینے اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔ترجمان ریسکیو کے مطابق ڈاکٹر رضوان نصیر نے روسی وفد کو پنجاب ایمرجنسی سروس کے جامع نظام، خدمات اور عملی طریقۂ کار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں، تربیتی سرگرمیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔روسی وفد کو صوبائی ایمرجنسی آپریشنز مرکز میں ہنگامی کالز کی وصولی اور متعلقہ اداروں تک منتقلی، امدادی کارروائیوں کے لیے فوری ردعمل، معلومات کے انتظام، افرادی قوت اور ہنگامی گاڑیوں کے نظام کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔وفد کے ارکان نے پنجاب ایمرجنسی سروس کے عملی انتظامات، آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی اور پیشہ ورانہ تربیت کے نظام میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے اس امر کو اہم قرار دیا کہ دونوں ممالک اپنے تجربات اور مہارتوں سے استفادہ کرتے ہوئے ہنگامی خدمات کے شعبے میں تعاون کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔روسی وفد کے سربراہ اور ڈائریکٹر شعبہ بین الاقوامی تعاون ملنک دمیتری نکولائیوچ نے کہا کہ 2005ء کے تباہ کن زلزلے کے دوران روسی امدادی کارکنوں کی پاکستان میں سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نمایاں مثال ہیں۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد اور پیشہ ورانہ یکجہتی پاک روس تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تربیت، مہارتوں اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیتوں میں اضافہ اور امدادی کارروائیوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔دورے کے اختتام پر روسی وفد کے سربراہ نے پرتپاک مہمان نوازی اور پیشہ ورانہ امور پر مفید تبادلۂ خیال کرنے پر پنجاب ایمرجنسی سروسز کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔ترجمان ریسکیو کے مطابق روسی وفد میں ڈائریکٹر شعبہ بین الاقوامی تعاون ملنک دمیتری نکولائیوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر شعبہ ریسکیو یونٹس بولیگین ایلیا نکولائیوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر شعبہ تعلیمی، سائنسی و تکنیکی سرگرمیاں دوروتیوک انتون الیگزینڈرووچ اور قومی مرکز برائے انتظامِ آفات کے ڈپٹی سربراہ کارپیوک دمیتری شامل تھے۔