تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

سعودی عرب کا کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر زور

سعودی عرب کا کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر زور

ریاض( مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے علاقائی کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھنا ضروری قرار دے دیا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق جدہ میں کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے پُرامن حالات کے قیام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے پر زور دیا تاکہ سفارتی حل کے ذریعے خطے میں سلامتی اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے کابینہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حالیہ ٹیلی فونک رابطے سے بھی آگاہ کیا۔سعودی کابینہ نے مملکت کی جانب سے قائم کیے گئے کثیرالقومی بحری دفاعی اتحاد میں عالمی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔ سعودی عرب سمیت 14 ممالک نے یہ اتحاد مشرق وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قائم کیا ہے۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق یہ اتحاد بحری سکیورٹی بہتر بنانے، عالمی سمندری راستوں کے تحفظ اور تجارت و نقل و حمل کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔سعودی خبر ایجنسی کے مطابق یہ اقدام بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں بین الاقوامی بحری راستوں اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے لیے تعاون کا نیا فریم ورک فراہم کرے گا۔دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے ایران کے ساتھ جلد معاہدہ ہونے کی امید ظاہر کی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک معاہدے کی ناکامی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، تاہم بعد میں عارضی طور پر اس اہم بحری راستے سے جہازوں کی آمدورفت کی اجازت دی گئی تھی۔