تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں نے لڑائی ختم کرانے کے لیے ایران کی ثالثی کی پیشکش پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔الجزیرہ کے مطابق عباس عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی ختم کرانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر مصر بھی اس تنازع میں شامل ہوا تو صورت حال مزید پیچیدہ ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بیرونی ملک کی فوجی مداخلت خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرچکی ہے۔مصر نے سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے بعد تنازع میں مزید ممالک کی شمولیت کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ایران اس سے قبل بھی سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کرچکا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
سعودی عرب، حوثیوں نے ایرانی ثالثی کی پیشکش مسترد نہیں کی، جواب بھی نہیں دیا
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں