واشنگٹن( ویب ڈیسک) امریکی ریاست الینوائے کی سدرن الینوائے یونیورسٹی کے سائنسدان پلاسٹک کے کچرے کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے ایسے منفرد تجربے پر کام کر رہے ہیں جس میں پلاسٹک سے حاصل ہونے والے اجزا کو مستقبل میں خوراک کی تیاری میں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔محققین نے پلاسٹک کے ٹکڑوں کو براہِ راست خوراک میں شامل کرنے کے بجائے بیکر کے خمیر کی ایک حیاتیاتی طور پر تبدیل شدہ قسم تیار کی ہے۔ اس خمیر کے ذریعے پلاسٹک کے کچرے کو چھوٹے اجزا میں توڑ کر ایسے مادے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو خوراک کی تیاری میں استعمال ہوسکیں۔تجربے کے دوران سائنسدانوں نے پلاسٹک کے کچرے سے حاصل کیے گئے مادے کی مدد سے بسکٹ بھی تیار کیے ہیں۔ اس منصوبے کو ’’یو بائٹس‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جو پلاسٹک توڑنے والے ’’مائیکروبائٹس‘‘ کے تصور سے ماخوذ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق خلا میں طویل عرصے تک رہنے والے انسانوں کے لیے خوراک اور فضلے کا انتظام ایک بڑا چیلنج ہے۔ زمین سے مسلسل خوراک اور ضروری سامان پہنچانا مشکل اور مہنگا ہوسکتا ہے، اس لیے دستیاب وسائل کو زیادہ سے زیادہ دوبارہ استعمال کرنے والے نظام تیار کیے جا رہے ہیں۔سدرن الینوائے یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر لہِرو جیاکوڈی کے مطابق اس منصوبے میں سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی تیار کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو ایسی خوراک قبول کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ مستقبل میں اگر یہ خوراک مارکیٹ میں آتی ہے تو صارفین کا اعتماد اور اسے کھانے پر آمادگی انتہائی اہم ہوگی۔محققین خوراک کے ذائقے، خوشبو اور مجموعی معیار کو صارفین کے لیے قابلِ قبول بنانے پر بھی کام کر رہے ہیں، جس کے لیے بیکر کا خمیر اور ونیلا جیسے ذائقوں کے استعمال کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کو قابلِ استعمال مادے میں تبدیل کرنے میں کامیابی کافی نہیں۔ عام صارفین کے لیے ایسی خوراک پیش کرنے سے قبل اس کی حفاظت، غذائی افادیت اور معیار کے حوالے سے مزید سائنسی تحقیق اور ضروری ضوابط کی تکمیل لازمی ہوگی۔