اسلام آباد (پاکستان خبر) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج ہوگا، جس میں اہم معاملات پر پیش رفت اور ممکنہ طور پر حتمی فیصلوں کی توقع کی جارہی ہے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اجلاس اسپیکر کے چیمبر میں دوپہر 2 بجے مقرر ہے۔ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ احتجاج اور انتشار کی صورت میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، جبکہ کسی ریلیف کے لیے سنجیدہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔حکومت نے مذاکرات میں اپوزیشن سے لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن اپنے مؤقف پر قائم رہی تو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات پر غور کیا جاسکتا ہے۔مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں جانب سے اپنے مطالبات پیش کیے گئے تھے۔ پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت، ان کی بہنوں کی نظر بندی کے خاتمے اور عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سمیت مطالبات سامنے رکھے، جبکہ حکومت نے سیاسی معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔فریقین نے پہلے دور کے اختتام پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد آج کا اجلاس مذاکراتی عمل کی آئندہ سمت کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔