انقرہ( مانیٹرنگ ڈیسک) شام کی حکومت کے نمائندوں اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان گزشتہ ماہ ترکیہ میں خفیہ براہِ راست مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنا تھا۔ یہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں جانب کے درمیان پہلی معلوم براہِ راست ملاقات تھی۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں شامی انٹیلی جنس اور وزارت خارجہ کے حکام کے علاوہ حزب اللہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ ملاقات ترکیہ کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی دعوت پر ہوئی اور اس کا مقصد باہمی سلامتی سے متعلق معاملات پر کشیدگی کم کرنا تھا۔شامی حکام نے حزب اللہ سے سرحد پار اسلحے کی اسمگلنگ روکنے اور خصوصاً جنوبی شام میں موجود اس کے مبینہ خفیہ نیٹ ورکس کے خاتمے میں تعاون کی درخواست کی۔ذرائع کے مطابق شام نے حزب اللہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ لبنان میں اسے غیر مسلح کرنے کے لیے فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔ حزب اللہ نے شام کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم اسمگلنگ اور مبینہ خفیہ نیٹ ورکس کے حوالے سے شامی مطالبات پر کوئی حتمی وعدہ سامنے نہیں آیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں سکیورٹی معاملات پر پیش رفت ہوئی، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اور ملاقات کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے کا بھی کوئی منصوبہ نہیں تھا۔رپورٹ کے مطابق ترکیہ نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ حزب اللہ کے اہم اتحادی ایران کو براہِ راست مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا۔