تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

شیخ حسینہ کا دسمبر تک بنگلا دیش واپسی کا عزم

شیخ حسینہ کا دسمبر تک بنگلا دیش واپسی کا عزم

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ اپنی جان کو درپیش خطرات کے باوجود رواں سال دسمبر تک وطن واپس جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ انہیں گرفتاری، قید حتیٰ کہ جان سے مارے جانے کے خدشات کا بھی علم ہے، تاہم وہ عوام کی آواز پر اپنے ملک واپس جانا چاہتی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 78 سالہ شیخ حسینہ نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ بنگلا دیش واپسی پر کن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن وہ اپنے عوام کی خواہش پر وطن واپسی کا ارادہ رکھتی ہیں۔شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہوگئی تھیں، جس کے بعد وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت منتقل ہوگئیں۔ اس دوران مظاہرین ان کی سرکاری رہائش گاہ تک پہنچ گئے تھے۔اقوام متحدہ کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں میں تقریباً 1,400 افراد جان سے گئے تھے۔بعد ازاں نومبر 2025 میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی، تاہم سابق وزیراعظم نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’قانون کے پردے میں سیاسی انتقام‘‘ قرار دیا۔