تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

شیخ حسینہ کا دسمبر تک بنگلا دیش واپسی کا عزم

شیخ حسینہ کا دسمبر تک بنگلا دیش واپسی کا عزم

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ اپنی جان کو درپیش خطرات کے باوجود رواں سال دسمبر تک وطن واپس جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ انہیں گرفتاری، قید حتیٰ کہ جان سے مارے جانے کے خدشات کا بھی علم ہے، تاہم وہ عوام کی آواز پر اپنے ملک واپس جانا چاہتی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 78 سالہ شیخ حسینہ نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ بنگلا دیش واپسی پر کن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن وہ اپنے عوام کی خواہش پر وطن واپسی کا ارادہ رکھتی ہیں۔شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہوگئی تھیں، جس کے بعد وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت منتقل ہوگئیں۔ اس دوران مظاہرین ان کی سرکاری رہائش گاہ تک پہنچ گئے تھے۔اقوام متحدہ کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں میں تقریباً 1,400 افراد جان سے گئے تھے۔بعد ازاں نومبر 2025 میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی، تاہم سابق وزیراعظم نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’قانون کے پردے میں سیاسی انتقام‘‘ قرار دیا۔