تازہ ترین
میدویدیف تماشائی کو گیند لگنے پر نااہل،بیجنگ اوپن ورلڈکپ 2027: پاکستان، بھارت سمیت 10 ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کرگئیں سلمان آغا کی ٹی ٹوئنٹی کپتانی ختم، ٹیم سے بھی باہر ہوگئے حیدرآباد کا نیاز اسٹیڈیم 20 سال کیلئے پی سی بی کے حوالے وزیراعظم کی سردیوں میں گیس لوڈ مینجمنٹ کا جامع منصوبہ بنانے کی ہدایت ایل این جی فراہمی میں خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ آئی ایم ایف کا صوبائی صحت، تعلیم اخراجات کا ہدف کم کرنے پر غور پاکستان کی 16 ممالک میں گوشت برآمد کرنے کی بنیاد قائم ہوگئی نائجیریا میں فوجی طیارہ گر کر تباہ، 32 افراد جاں بحق آپریشن فجر الیمن، تعز میں 250 حوثی جنگجو ہلاک برطانوی اڈے سے بی ون بمبار طیارے واپس بلا لیے گئے، وینس سرخی: ایران کی خلیجی ممالک کو خبردار، سرزمین حملوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیں حکومت اور اپوزیشن میں 24 گھنٹوں میں مذاکرات کی امید، فواد چودھری اپنی چھت اپنا گھر، عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے پر جواب خیبرپختونخوا کی صورتحال، صدر اور وزیراعظم میں آج اہم مشاورت پرائیویٹ استاد
پاکستان خبر

اسلام آباد میں دھرنوں کی اجازت نہیں، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد میں دھرنوں کی اجازت نہیں، رانا ثنا اللہ

لاہور (پاکستان خبر) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت نے طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنا چاہتی ہے تو پشاور، مردان، کراچی یا لاہور میں مظاہرہ کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ مقتدرہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات سے ناخوش ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا فیصلہ صدر اور وزیراعظم نے کیا ہے اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا گیا ہوگا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے، اگر ان کا کوئی مؤقف ہے تو وہ وفاقی حکومت سے براہِ راست بات کریں۔ انہوں نے اپوزیشن کو بھی لانگ مارچ سے گریز کا مشورہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے آئینی راستے مخصوص حالات میں موجود ہوتے ہیں۔ اگر کسی صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال خراب ہو اور صوبائی حکومت وفاق سے تعاون نہ کرے تو وفاقی حکومت کے پاس اقدامات کرنے کے سوا کیا راستہ رہ جاتا ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج پسندیدہ اقدامات نہیں اور صرف ناگزیر صورتحال میں ہی ان پر غور کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی معاملات پر مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوچکا ہے، جس میں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔