تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

تربت میں اغوا کیے گئے 6 مزدور قتل، لاشیں برآمد

تربت میں اغوا کیے گئے 6 مزدور قتل، لاشیں برآمد

کوئٹہ( پاکستان خبر) بلوچستان کے ضلع تربت سے دو روز قبل اغوا کیے گئے چھ مزدوروں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں پولیس نے تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کر دیا۔پولیس کے مطابق مقتولین کی لاشیں مختلف مقامات سے ملی ہیں اور ابتدائی شواہد کے مطابق انہیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات کے ساتھ لاشوں کی شناخت کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں پنجاب کے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے محمد تیمور، محمد وزیر اور محمد پرویز، ضلع لودھراں کی تحصیل دنیاپور کے محمد ارشد جبکہ خیبر پختونخوا کے اضلاع بونیر اور صوابی سے تعلق رکھنے والے امجد خان اور یحییٰ شامل ہیں۔بلوچستان حکومت کے معاون خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے تصدیق کی کہ برآمد ہونے والی لاشیں اغوا کیے گئے چھ مزدوروں کی ہیں۔ ان کے مطابق دو روز قبل تربت کے علاقے کلاتک سے سات مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے ایک کو اغوا کے فوری بعد قتل کر دیا گیا، جبکہ باقی چھ افراد کو ساتھ لے جایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ جاں بحق مزدوروں میں چار کا تعلق پنجاب اور دو کا خیبر پختونخوا سے تھا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر سفاکیت کا مظاہرہ کیا اور بلوچستان کی ترقی و عوام کے روزگار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔دوسری جانب گوادر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے روزگار کا جھانسہ دے کر پنجاب سے لائے گئے 12 افراد کو بازیاب کرا لیا۔ پولیس کے مطابق تین ملزمان کو گرفتار اور پانچ گاڑیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ گرفتار افراد میں آواران سے تعلق رکھنے والے بہیر الدین اور نادر شاہ جبکہ پنجگور کا رہائشی عبدالماجد شامل ہے۔یہ واقعہ بلوچستان میں غیر مقامی مزدوروں پر حملوں کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ اس سے قبل ماشکیل میں بھی پانچ مزدوروں کو قتل کیا گیا تھا، جہاں وہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔