کوئٹہ( پاکستان خبر) بلوچستان کے ضلع تربت سے دو روز قبل اغوا کیے گئے چھ مزدوروں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں پولیس نے تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کر دیا۔پولیس کے مطابق مقتولین کی لاشیں مختلف مقامات سے ملی ہیں اور ابتدائی شواہد کے مطابق انہیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات کے ساتھ لاشوں کی شناخت کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں پنجاب کے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے محمد تیمور، محمد وزیر اور محمد پرویز، ضلع لودھراں کی تحصیل دنیاپور کے محمد ارشد جبکہ خیبر پختونخوا کے اضلاع بونیر اور صوابی سے تعلق رکھنے والے امجد خان اور یحییٰ شامل ہیں۔بلوچستان حکومت کے معاون خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے تصدیق کی کہ برآمد ہونے والی لاشیں اغوا کیے گئے چھ مزدوروں کی ہیں۔ ان کے مطابق دو روز قبل تربت کے علاقے کلاتک سے سات مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے ایک کو اغوا کے فوری بعد قتل کر دیا گیا، جبکہ باقی چھ افراد کو ساتھ لے جایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ جاں بحق مزدوروں میں چار کا تعلق پنجاب اور دو کا خیبر پختونخوا سے تھا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر سفاکیت کا مظاہرہ کیا اور بلوچستان کی ترقی و عوام کے روزگار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔دوسری جانب گوادر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے روزگار کا جھانسہ دے کر پنجاب سے لائے گئے 12 افراد کو بازیاب کرا لیا۔ پولیس کے مطابق تین ملزمان کو گرفتار اور پانچ گاڑیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ گرفتار افراد میں آواران سے تعلق رکھنے والے بہیر الدین اور نادر شاہ جبکہ پنجگور کا رہائشی عبدالماجد شامل ہے۔یہ واقعہ بلوچستان میں غیر مقامی مزدوروں پر حملوں کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ اس سے قبل ماشکیل میں بھی پانچ مزدوروں کو قتل کیا گیا تھا، جہاں وہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔