کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) سائنس دانوں نے نظامِ شمسی کے ابتدائی دور سے متعلق ایک اہم سوال کا جواب تلاش کرلیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق نظامِ شمسی کی تشکیل کے ابتدائی مرحلے میں شدید حرارتی واقعات نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔ییل یونیورسٹی کے شعبہ ارضی و سیاروی علوم کے اسسٹنٹ پروفیسر دمن ویر گریوال اور ان کے ساتھی محققین نے اس حوالے سے تحقیق کی، جو جریدے نیچر آسٹروفزکس میں شائع ہوئی ہے۔تحقیق میں سائنس دانوں نے دو اقسام کے مادوں، کونڈرولز اور میٹرکس، کا جائزہ لیا۔ کونڈرولز شدید حرارت کے نتیجے میں بننے والے چھوٹے پتھریلے ذرات ہیں، جبکہ میٹرکس نرم اور گرد آلود مادے پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں پانی کی برف سمیت دیگر بخارات پذیر اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق کونڈرولز اس وقت وجود میں آئے جب خلا میں موجود گرد کے ذرات کو طاقتور جھٹکوں جیسے شدید حرارتی واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ذرات پگھل کر مائع کی چھوٹی بوندوں میں تبدیل ہوئے اور پھر تیزی سے ٹھنڈے ہوکر ننھے پتھریلے ذرات بن گئے۔اس سے قبل سائنس دانوں کو معلوم تھا کہ نظامِ شمسی کی تشکیل کے تقریباً 20 لاکھ سے 40 لاکھ سال بعد کونڈرولز میں شدید حرارت کے آثار موجود تھے، تاہم نئی تحقیق میں اس سے بھی ابتدائی دور، یعنی پہلے 10 لاکھ سال، کا جائزہ لیا گیا۔تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ نظامِ شمسی کی تشکیل کے بالکل ابتدائی مرحلے میں بھی شدید حرارتی واقعات اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ نتائج نظامِ شمسی کے ابتدائی ماحول اور اس میں موجود مادے کے ارتقا کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔