پیرس( مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں تعلیمی نظام کی صورتحال اور اسکولوں میں سہولیات کی کمی کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں 1747 افراد کو گرفتار کیا گیا۔احتجاج کے باعث ملک بھر میں 735 اسکول کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے، جبکہ مختلف مقامات پر سڑکوں اور اسکولوں کے قریب آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔طلبہ اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اسکولوں کی خستہ عمارتوں، طویل اوقاتِ کار اور عملے کی غیر حاضری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس، اساتذہ، صحافیوں اور راہ گیروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔وزیر تعلیم ایڈوار ژیفغے نے بتایا کہ ملک کے 3700 اسکولوں میں سے 735 احتجاج سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت غیر حاضر اساتذہ کی جگہ فوری طور پر نئے اساتذہ کی تعیناتی اور تعلیمی نظام میں طلبہ کی آواز کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کرے گی۔یہ احتجاج پیرس کے علاقے سے شروع ہوکر ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا ہے، جبکہ طلبہ تنظیموں نے حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے آئندہ بھی مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔والدین اور تعلیمی حکام نے احتجاج کے دوران طلبہ، اساتذہ اور دیگر افراد کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔