واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اور برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوجی تعاون کے مختلف امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق زیر غور تجاویز میں سعودی عرب سے دفاعی تعاون کے ساتھ حوثیوں کے خلاف لڑنے والی یمنی فورسز کی مدد کیلئے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی بھی شامل ہے۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق سعودی عرب نے دمشق سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں تعاون کی درخواست کی ہے، تاہم شامی سفارت کار کا کہنا ہے کہ شام فی الحال اپنی داخلی ترجیحات، بحالی اور تعمیر نو پر توجہ دے رہا ہے۔شامی سفارت کار کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی درخواست موصول ہونے پر دونوں ممالک کے درمیان موجود سرکاری اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت اس پر غور کیا جائے گا۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ شام کی ممکنہ شمولیت سے یمن تنازع کے فرقہ وارانہ اور علاقائی پہلو مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں، جبکہ شامی فورسز اور حوثیوں کے براہ راست تصادم سے حساس علاقائی ردعمل کا خدشہ بھی ہے۔رپورٹ کے مطابق شام کے عبوری سربراہ احمد الشرع نے حال ہی میں ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔ تین امریکی عہدیداروں کے مطابق احمد الشرع سعودی درخواست پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ اسے قبول کرلیں۔