تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

طالبان کی خواتین پر پابندیاں، افغان معیشت کو شدید نقصان

طالبان کی خواتین پر پابندیاں، افغان معیشت کو شدید نقصان

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کو تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے منفی معاشی اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ عالمی ادارہ محنت نے ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال اور خواتین کی کم ہوتی معاشی شمولیت پر نئی رپورٹ جاری کردی۔رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان معیشت میں نمایاں سکڑاؤ آیا جبکہ روزگار کی منڈی بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ افغان افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 16.5 فیصد سے کم ہو کر صرف 5 فیصد رہ گیا ہے۔عالمی ادارہ محنت کے مطابق افغانستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت دنیا کی دوسری کم ترین سطح پر ہے۔ خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیوں کے باعث مردوں اور خواتین کے درمیان روزگار کا فرق مزید وسیع ہوگیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں روزگار اور آبادی کا تناسب 2020 کے 36.7 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں تقریباً 32.5 فیصد رہ گیا۔ اسی طرح تعلیم، روزگار اور فنی تربیت سے محروم خواتین کی شرح 76 فیصد سے بڑھ کر 84 فیصد ہوگئی ہے۔عالمی ادارہ محنت کے اعداد و شمار کے مطابق خواتین پر پابندیوں اور دیگر سخت گیر پالیسیوں نے پہلے ہی مشکلات کا شکار افغان معیشت کے بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔