تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا قوم سازی میں اساتذہ کے کردار کو خراجِ تحسین امریکی سینیٹر کا ایران سے سفارتی معاہدے کو ترجیح دینے پر زور تبدیلی گالیوں سے نہیں، کام کرکے دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے: مریم نواز خواجہ آصف کے پی حکومت سے دہشت گردی پر 8 سوالات بلغاریائی حکمران زار سیموئیل کی باقیات 60 سال بعد وطن واپس سعودی تنصیبات پر حوثی حملے، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا صحت اور فارما شعبے میں خود انحصاری، برآمدات بڑھانے کیلئے اہم پیش رفت ملکی برآمدات 30.139 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، 45 فیصد اضافہ پاکستان کی معاشی پوزیشن مضبوط، آئی ایم ایف سے نکلنے کا موقع سرکاری قرضے 10 سال میں 340 فیصد بڑھ گئے، حجم 86.7 کھرب روپے ایران کی سخت وارننگ، حملے کیلئے سرزمین استعمال ہوئی تو جواب مختلف ہوگا اداکارہ نوال پرویز ملک رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں گلاسٹن بری 2027 کے تمام ٹکٹس 45 منٹ میں فروخت ہوگئے انجلینا جولی نے غزہ کی تباہی کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں دبئی میں صبا قمر اور راکھی ساونت کی اچانک ملاقات
پاکستان خبر

چین کے خلائی اسٹیشن کیلئے پاکستانی پائلٹس کی تربیت آخری مرحلے میں

چین کے خلائی اسٹیشن کیلئے پاکستانی پائلٹس کی تربیت آخری مرحلے میں

 اسلام آباد( ویب ڈیسک)پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون کے تحت ایک پاکستانی شہری کے چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر جانے کا وقت قریب آگیا ہے، جس کے لیے دو پاکستانی پائلٹس کی تربیت آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔پاکستانی پائلٹس ذیشان علی اور خرم داؤد بیجنگ کے چائنا ایسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ سے چینی زبان سمیت سخت اور جامع تربیت حاصل کر رہے ہیں۔یہ خلائی مشن دونوں ممالک کے درمیان 2019 میں طے پانے والے خلائی تعاون کا حصہ ہے۔ سپارکو میں انسان بردار خلائی تعاون کے سربراہ عامر گیلانی کے مطابق حتمی خلا باز کے نام کا فیصلہ اکتوبر کے وسط یا آخر تک متوقع ہے۔منتخب پاکستانی پائلٹ براہ راست چین سے خلائی مشن پر روانہ ہوگا اور پاکستان واپس آئے بغیر مشن میں شامل ہوگا، جبکہ زمین پر واپسی کے بعد صحت یابی کا عمل مکمل کرکے وطن لوٹے گا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ ملک کا کوئی شہری خلا میں پرواز کرے گا۔سپارکو کے مصنوعی ذہانت کے ڈائریکٹر عزیر انصاری کے مطابق ابتدائی طور پر پائلٹس اور سائنس دانوں کے بڑے گروپ میں سے 42 فائنلسٹس کا انتخاب کیا گیا، جن کے طبی معائنے اور نفسیاتی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں میں تیز رفتار پرواز اور شدید جسمانی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نسبتاً کم ہوتی ہے، اسی لیے فائٹر پائلٹس کو منتخب کیا گیا۔خلا میں جانے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے گا، جس کا بنیادی کام خلائی جہاز چلانے کے بجائے پاکستان کے سائنسی تجربات مکمل کرنا ہوگا۔کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی جامعات سے موصول ہونے والی 300 سے زائد تجاویز میں سے چینی اداروں نے بائیوٹیکنالوجی کے چار تجربات منتخب کیے ہیں۔ یہ تجربات غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے میں معاونت کریں گے۔عزیر انصاری نے کہا کہ پاکستانی سائنس دانوں کے لیے یہ زندگی میں ایک بار ملنے والا انتہائی نایاب موقع ہے، جہاں پاکستانی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر جانچنے کا موقع مل رہا ہے۔پاکستان کے پاس اپنا خلائی جہاز یا راکٹ نہ ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان خلائی شراکت داری وسیع ہے اور مشن مکمل طور پر چینی ٹیکنالوجی، زبان اور رہنمائی سے منسلک ہے۔پاکستان اور چین کا خلائی تعاون خلائی اسٹیشن تک محدود نہیں، بلکہ 2028 کے قریب چین کے چانگ ای-8 قمری مشن کے ذریعے ایک پاکستانی روبوٹک روور بھی چاند پر بھیجے جانے کا منصوبہ ہے۔چاند کی سطح پر جانے والا یہ روور خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کی نشاندہی کرے گا اور اپنے راستے کا تعین کرتے ہوئے آگے بڑھے گا۔