واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل امن انعام 2026 نہ ملنے پر برہم ہوگئے اور انعام جنوبی افریقا کی قانون دان ناوی پلے کو دیے جانے کے فیصلے کو شرمناک اور ناروے کے لیے نہ مٹنے والا داغ قرار دے دیا۔ٹرمپ نے نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ری پبلکن امیدواروں کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں نوبیل امن انعام ملنا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اس فیصلے نے ناروے اور انعام دینے والوں کو بدنام کیا ہے۔امریکی صدر نے ناوی پلے کو ایسی شخصیت قرار دیا جسے کوئی نہیں جانتا، اور نوبیل کمیٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انعام چند ایسے نظریاتی افراد کے ہاتھوں بدنام ہوچکا ہے جو جمہوریت اور تہذیب کے مخالف ہیں۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکا ناروے کے اس فیصلے کو نہیں بھولے گا۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے متعدد جنگیں ختم کرانے میں کردار ادا کیا، تاہم تنازعات کے حل میں ان کے کردار اور بعض دعوؤں پر اختلاف بھی کیا جاتا رہا ہے۔واضح رہے کہ ناوی پلے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور جنگی جرائم و نسل کشی کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے خدمات کے اعتراف میں 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی عدالتوں میں جج رہ چکی ہیں۔
نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ٹرمپ برہم، ’’ناروے کو نہیں بھولیں گے‘‘
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں