ڈبلن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا وینزویلا کی طرز پر ایران میں موجود رہ کر وہاں کا تیل اپنے قبضے میں رکھ سکتا ہے۔آئرلینڈ کے دورے کے دوران گالف میچ دیکھتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے ایران جنگ رواں برس ختم ہوجائے گی، ممکنہ طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد۔مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی تیل منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ سعودی تیل پائپ لائن پر حملے کے بعد تاجروں نے پیر کو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا صرف ایسا معاہدہ کرے گا جو درست ہو اور کسی نامناسب سمجھوتے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ایران امن مذاکرات کیلئے مسلسل رابطے کررہا ہے، تاہم تہران ماضی میں ایسے دعووں کی تردید کرتا رہا ہے۔امریکی صدر نے ایران کے ساتھ معاملات جاری رکھنے کی تجویز دیتے ہوئے اسے اگست میں وینزویلا کے ساتھ تیل کی پیداوار سے متعلق ہونے والے معاہدے سے تشبیہ دی۔ٹرمپ کے مطابق امریکا بالآخر ایران سے نکل جائے گا، تاہم اگر وہاں موجود رہنے اور وینزویلا کی طرح تیل اپنے قبضے میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا سے حاصل ہونے والی آمدنی نے جنگ کے اخراجات سے کئی گنا زیادہ رقم پوری کردی۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 اکتوبر کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد جنگ شروع ہوگئی۔ امریکا کی جانب سے حملے جاری رہے جبکہ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز بھی بند کردی، جس سے چند ماہ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔