واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاس اینجلس میں جاری ٹیکنالوجی کانفرنس کے دوران امریکی چپ ساز کمپنی این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو جینسن ہوانگ سے فون پر گفتگو کی۔گفتگو میں ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’جھوٹا پروپیگنڈا‘‘ قرار دیا اور اے آئی کی ترقی کی رفتار محدود کرنے کی مخالفت کی۔امریکی صدر نے خبردار کیا کہ غیر ضروری پابندیاں عائد کرنے کی صورت میں امریکا مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں چین سے پیچھے رہ سکتا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اے آئی کی تیز رفتار پیش رفت روکنے کی مخالفت دراصل ان عناصر کے مفاد میں ہے جو اس ٹیکنالوجی کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کے مطابق ایسے سیاسی عناصر میں چین بھی شامل ہوسکتا ہے۔دوسری جانب جینسن ہوانگ نے بھی مصنوعی ذہانت کے انتہائی خطرناک نتائج سے متعلق بعض پیش گوئیوں کو غیر سائنسی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی خدشات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے، تاہم انہیں ٹیکنالوجی کی ترقی روکنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔