انقرہ( مانیٹرنگ ڈیسک)ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ریاض پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو مستقل اور مؤثر ادارہ جاتی شکل دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کو درپیش چیلنجوں کے تناظر میں ترک صدر نے سعودی عرب کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ترک کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے بتایا کہ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایک مؤثر اور پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیل کرنے پر کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں معاہدے کی منظوری کے لیے اسے آئندہ دنوں میں ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں۔صدر اردوان کا کہنا تھا کہ خطے میں تنازعات کا دائرہ مسلسل وسیع ہورہا ہے، تاہم ترکیہ اپنے گرد جاری بحرانوں کے باوجود استحکام، اعتماد اور امن کے مضبوط مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لبنان سے یمن اور ایران تک پھیلے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، جبکہ مختلف مقاصد کے حصول کے لیے بالخصوص پراکسی قوتوں کو استعمال کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ترک صدر نے زور دیا کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے خطے کے تمام ممالک کو اپنی مشترکہ ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ اختلافات کو جنگ اور تصادم کے بجائے مذاکرات، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ان کے مطابق خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا باہمی احترام ترکیہ کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔