کیف(مانیٹرنگ ڈیسک) یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر روس بھی اسی طرح حملے روکنے پر آمادہ ہو تو یوکرین بعض اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کیلئے تیار ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ اگر شراکت دار اس بات کی ضمانت دینے کیلئے تیار ہوں کہ روس یوکرین کے بجلی کے نظام، توانائی کی دیگر تنصیبات، اہم بنیادی ڈھانچے اور غذائی اشیا کی ترسیل کے راستوں پر حملوں سے حقیقی طور پر اجتناب کرے گا تو یوکرین بھی جواباً ایسے حملے روک دے گا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی جزوی جنگ بندی کا قابلِ اعتماد اور طویل المدت ہونا ضروری ہے، جبکہ اسے روس میں رواں ماہ ہونے والے انتخابات کے بعد بھی برقرار رہنا چاہیے۔زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہم بنیادی ڈھانچے کو حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے کشیدگی میں کمی کا اقدام امن کی جانب پہلا قدم بن سکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس اور یوکرین توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے پر متفق ہوگئے ہیں۔