واشنگٹن / تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ متعدد فوجی تنصیبات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل امریکی افواج پر مبینہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں کی گئی۔سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملوں میں ایران کے مختلف علاقوں میں موجود فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام اور بحری صلاحیتوں سے متعلق مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد خطے میں موجود امریکی اہلکاروں، خلیجی اتحادی ممالک اور عالمی بحری تجارت کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے جمعرات کی صبح جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں بھی حملے کیے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جزیرہ قشم اور آبادان کے اطراف متعدد مقامات پر میزائل داغے گئے۔صوبہ ہرمزگان کے نائب گورنر احمد نفیسی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چار بجے قشم جزیرے کے قریب ایک مقام کو امریکی فوج نے نشانہ بنایا۔ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے صوبہ خوزستان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ آبادان کے اطراف بھی امریکی میزائل حملے کیے گئے۔اب تک ایران کی جانب سے ان حملوں میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں، جبکہ امریکی حکام نے بھی کارروائی کے نتائج سے متعلق مزید معلومات جاری نہیں کیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر پڑنے کا خدشہ ہے۔