تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

امریکا، چین اور روس کے ساتھ جرائم کے خلاف محدود تعاون قائم

امریکا، چین اور روس کے ساتھ جرائم کے خلاف محدود تعاون قائم

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے گزشتہ ایک سال کے دوران چین اور روس کے ساتھ محدود نوعیت کی نئی شراکت داریاں قائم کی ہیں، جن کا مقصد عالمی جرائم کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنا ہے۔خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کاش پٹیل نے بتایا کہ دونوں ممالک کے ساتھ ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں، جن کے ذریعے اہلکاروں کا تبادلہ، مشترکہ تحقیقات، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور بعض کارروائیاں کی گئی ہیں۔ایف بی آئی ڈائریکٹر کے مطابق چینی قانون نافذ کرنے والے اہلکار باقاعدگی سے امریکا کا دورہ کرتے ہیں، جبکہ امریکی حکام بھی چین جا کر مختلف مقدمات پر کام کرتے ہیں۔کاش پٹیل نے بتایا کہ مئی میں چین کی وزارتِ پبلک سکیورٹی اور دبئی پولیس کے ساتھ مل کر آپریشن سینڈ ڈالر کے دوران سائبر فراڈ کے ایک بڑے مرکز کے خلاف کارروائی کی گئی، جس میں 300 افراد گرفتار کیے گئے، 300 ملین ڈالر ضبط ہوئے اور انسانی اسمگلنگ کا شکار ہزاروں افراد کو آزاد کرایا گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعاون صرف مخصوص جرائم تک محدود ہے اور اس سے امریکا کے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت متاثر نہیں ہوگی۔