پیرس( مانیٹرنگ ڈیسک) بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے، اسکولوں کے مسائل اور ہاؤسنگ بحران کے خلاف یورپ کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہروں نے شدت اختیار کر لی۔ فرانس، اٹلی اور البانیہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پیش آئے۔فرانس میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئےفرانس میں پرتشدد مظاہروں کے بعد صدر ایمانوئل میکرون نے وزیر داخلہ لوراں نونیز کی استعفیٰ دینے کی پیشکش مسترد کر دی۔ صدارتی دفتر کے مطابق میکرون نے انہیں پولیس اور سکیورٹی اداروں میں کمان کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے عہدے پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد احتجاج میں شریک ہیں۔ مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ، آتش زنی اور جھڑپوں کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سیکڑوں اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا۔فرانس میں احتجاج کا آغاز ستمبر کے وسط میں پیرس کے نواحی علاقے میں اساتذہ کی جانب سے عملے کی کمی کے خلاف ہڑتال سے ہوا تھا، جو بعد ازاں ملک بھر میں پھیل گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مظاہروں میں مہنگائی، خوراک اور توانائی کی بلند قیمتوں سمیت وسیع تر معاشی مسائل بھی شامل ہوگئے۔البانیہ میں وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہالبانیہ میں بھی حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں، جہاں طلبہ اور شہریوں نے وزیراعظم ایڈی راما سے استعفے کا مطالبہ کیا۔دارالحکومت ترانا میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بموں سمیت آتش بازی کا استعمال کیا۔ اس دوران متعدد سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ حکام کے مطابق سیکڑوں افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے گئے، جبکہ درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔وزیراعظم ایڈی راما نے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے اپوزیشن پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔میلان میں احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور گرفتاریاںاٹلی کے شہر میلان میں مہنگائی اور جنگ کے خلاف ہونے والے مظاہرے بھی پرتشدد ہوگئے۔ مظاہرین نے دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا۔اطالوی پولیس نے پرتشدد کارروائیوں میں ملوث درجنوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا، جن میں متعدد نابالغ افراد بھی شامل ہیں۔میلان کے میئر نے احتجاج کے آئینی حق کو تسلیم کرتے ہوئے املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر حملوں کی شدید مذمت کی۔پرتگال، اسپین اور یونان میں بھی احتجاجیورپ کے دیگر ممالک، جن میں پرتگال، اسپین اور یونان شامل ہیں، میں بھی معاشی مشکلات اور سماجی مسائل کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔پرتگال کے دارالحکومت لزبن اور شہر پورٹو میں مہنگائی اور ہاؤسنگ بحران کے خلاف ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔ اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں رہائشی اخراجات اور کرایوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف شہریوں نے مختلف چوکوں میں خیمے لگا رکھے ہیں۔ادھر یونان میں موٹر آئل ریفائنری کے مزدوروں نے کام کی جگہ پر حفاظتی انتظامات بہتر بنانے اور حالیہ حادثات کی شفاف تحقیقات کے مطالبے پر احتجاج کیا۔مختلف ممالک میں جاری یہ مظاہرے ظاہر کرتے ہیں کہ یورپ کو مہنگائی، رہائشی اخراجات، توانائی کی قیمتوں اور دیگر سماجی و اقتصادی مسائل کے باعث بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔
یورپ میں پرتشدد مظاہرے، فرانس، اٹلی اور البانیہ میں جلاؤ گھیراؤ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں