لاہور (پاکستان خبر) 1965 کی جنگ کے 16ویں روز بھارتی فوج کا جانی نقصان 6 ہزار 889 تک پہنچ گیا، جبکہ ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر بھاری فوجی سازوسامان کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔سیالکوٹ اور جموں کے محاذوں پر پاکستان کی مسلح افواج، خصوصاً پاک فضائیہ، نے بھارتی حملوں کو ناکام بناتے ہوئے دشمن کے 36 ٹینک تباہ کردیے۔ پاک فوج نے واہگہ، اٹاری اور کھیم کرن کے محاذوں پر بھارتی پیش قدمی روک دی اور دشمن کو 12 میل تک اس کی حدود میں پیچھے دھکیلتے ہوئے 6 میل علاقے پر قبضہ کرلیا۔پاک فوج نے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا اور راجوڑی سیکٹر کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ دوسری جانب پاکستان نیوی نے بحیرہ عرب میں مکمل کنٹرول قائم کرتے ہوئے بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت روک دی۔پاک فضائیہ کے سیبر طیاروں نے دریائے بیاس کے اوپر بھارتی فضائیہ کے 2 ہنٹر طیارے بھی مار گرائے۔ سیالکوٹ، جموں، واہگہ، اٹاری، کھیم کرن اور گدرو سیکٹرز میں پاکستانی لڑاکا طیاروں نے 20 بھارتی ٹینک، متعدد فوجی گاڑیاں اور توپوں کی پوزیشنز تباہ کردیں۔1965 کی جنگ قومی تاریخ میں مسلح افواج سے عوام کی محبت اور وابستگی کے متعدد واقعات کی یاد دلاتی ہے۔ 16 ستمبر 1965 کو زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے بھرپور عطیات دے کر دفاعی فنڈ میں مالی تعاون کیا۔