تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

کے پی پولیس کو پنجاب پولیس نہیں بننے دیں گے، سہیل آفریدی

کے پی پولیس کو پنجاب پولیس نہیں بننے دیں گے، سہیل آفریدی

پشاور( پاکستان خبر) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کی پولیس کو پنجاب پولیس کے طرز پر کام نہیں کرنے دیا جائے گا اور عوام کو مؤثر ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت صوبے میں پولیس کی کارکردگی سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں پولیس امور اور عوامی شکایات کے ازالے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے اگست کے دوران کمپلینٹ سیل کو مجموعی طور پر 3 ہزار 551 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 498 شکایات قانونی پیچیدگیوں کے باعث قابلِ عمل نہیں تھیں۔سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ کمپلینٹ سیل کے ذریعے عوام کو فراہم کیے جانے والے ریلیف سے شہریوں کو بھرپور انداز میں آگاہ کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے پشاور کے پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی اور پولیس کی جانب سے طلبہ پر مبینہ تشدد کے واقعے کا بھی نوٹس لیا۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نرسنگ کالج واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔