واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظار کریں اور دیکھیں کہ امریکا تہران کے خلاف کیا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے پر امریکا بڑی حد تک فیصلہ کر چکا ہے، جبکہ ایرانی حکام بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایران میں مذاکرات کے لیے کس سے بات کی جائے، کیونکہ ان کے بقول وہاں کی قیادت کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ معاہدے کرنے کے ماہر ہیں اور اسی صلاحیت کے ذریعے دولت کمائی ہے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کی نظر میں سب سے اہم معاملہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔امریکی صدر نے خطاب کے دوران یوکرین جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازعے کی ایک وجہ سابق صدر جو بائیڈن کا روس کا مذاق اڑانا بھی تھی۔ٹرمپ نے آئندہ وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ری پبلکن ووٹرز پر زور دیا کہ وہ اس طرح ووٹ ڈالیں جیسے وہ خود بیلٹ پیپر پر موجود ہوں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ری پبلکن پارٹی انتخابات ہار گئی تو سماجی تحفظ اور ٹِپس پر ٹیکس سمیت کئی معاملات میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ری پبلکن پارٹی کے زیر اثر علاقوں کو انتخابی حلقہ بندیوں کے ذریعے دانستہ طور پر تقسیم کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں امریکا کی عزت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔