کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) سفر کے دوران گاڑی کی یو ایس بی پورٹ سے موبائل فون چارج کرنا آسان ضرور ہے، تاہم اکثر صارفین کو گھر کے مقابلے میں گاڑی میں فون کی بیٹری سست رفتاری سے چارج ہونے کی شکایت ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق چارجنگ کی رفتار کا انحصار بنیادی طور پر وولٹیج، ایمپیئر اور واٹ پر ہوتا ہے۔ چارجر جتنی زیادہ طاقت فراہم کرے گا، فون اتنی ہی تیزی سے چارج ہوگا، بشرطیکہ فون بھی اس طاقت کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔زیادہ تر جدید فونز کے چارجرز عموماً 5 سے 9 وولٹ کے درمیان بجلی فراہم کرتے ہیں، جبکہ گھریلو برقی نظام میں اس سے کہیں زیادہ وولٹیج موجود ہوتا ہے۔ تاہم فون براہِ راست گھریلو وولٹیج سے چارج نہیں ہوتا بلکہ چارجر اسے مطلوبہ وولٹیج اور طاقت میں تبدیل کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق پرانی گاڑیوں میں موجود یو ایس بی اے پورٹس اکثر محدود کرنٹ فراہم کرتی ہیں، بعض میں تقریباً 0.5 ایمپیئر تک کرنٹ دستیاب ہوتا ہے، جو جدید فونز کی تیز چارجنگ کیلئے ناکافی ہے۔یو ایس بی سی ٹیکنالوجی نے چارجنگ کی رفتار بہتر بنانے میں مدد دی ہے کیونکہ یہ یو ایس بی اے کے مقابلے میں زیادہ طاقت فراہم کرسکتی ہے۔ تاہم اگر گاڑی کی یو ایس بی سی پورٹ بھی محدود واٹ فراہم کرتی ہو تو فون تیزی سے چارج نہیں ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی کی یو ایس بی پورٹ سے موبائل کی سست چارجنگ کی بنیادی وجہ محدود بجلی کی فراہمی ہے۔ اگر گاڑی میں مناسب تیز رفتار یو ایس بی سی پورٹ موجود نہ ہو تو زیادہ طاقت فراہم کرنے والا کار چارجر استعمال کرنا بہتر آپشن ہوسکتا ہے۔