تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

بلوچستان سیلاب متاثرین کی رہائشی امداد کا فنڈ منتقل کرنے پر ورلڈ بینک برہم

بلوچستان سیلاب متاثرین کی رہائشی امداد کا فنڈ منتقل کرنے پر ورلڈ بینک برہم

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)عالمی بینک نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مختص اربوں روپے کے رہائشی پروگرام کے فنڈز بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے صوبے میں غربت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔وفاقی اور بلوچستان حکومت کو بھیجے گئے مراسلے میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ مستحق خاندانوں کی سماجی اور معاشی حالت پہلے ہی انتہائی کمزور ہے۔ رہائشی امداد سے محرومی نہ صرف ان کے مسائل میں اضافہ کرے گی بلکہ موجودہ کمزوریاں ایک دوسرے کو تقویت دے کر مستقبل میں حالات مزید خراب کرسکتی ہیں۔عالمی بینک کے مطابق رہائشی پروگرام کے اہل افراد میں 84 فیصد انتہائی غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں 28 فیصد خاندانوں کی ماہانہ آمدن 30 ڈالر سے کم، جبکہ 26 فیصد کی آمدن 31 سے 70 ڈالر کے درمیان ہے۔ مستحق خاندانوں میں 39 فیصد کرایہ دار، 37 فیصد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور 8 فیصد چھوٹے کسان شامل ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ان خاندانوں کے پاس محدود بچت، باقاعدہ قرضوں تک کم رسائی اور پیداواری اثاثے نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث وہ اچانک معاشی یا قدرتی آفات کے اثرات برداشت کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔22 جون 2026ء تک رہائشی امداد کو پہلے مرحلے میں 62 ہزار 966 مستحقین تک محدود کرنے اور سبسڈی کی سہولت 97 ہزار خاندانوں تک رکھنے کے فیصلے کے بعد عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگاآبازار نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں میں فنڈز کی منتقلی کے فیصلے کے علاوہ امدادی پروگرام میں ممکنہ فراڈ اور بدعنوانی سے متعلق معاملات سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی عالمی بینک نے تشویش کا اظہار کیا۔