تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

پولٹری فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس غیرقانونی قرار، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

پولٹری فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس غیرقانونی قرار، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

اسلام آباد ( پاکستان خبر) وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، جس میں قرار دیا گیا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام موجود ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق حکومت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ کی فراہمی پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا تھا، جو مالی سال 2024 کے فنانس ایکٹ کے تحت وصول کیا جا رہا تھا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، اور اس استثنیٰ کے بعد ان پر رجسٹریشن کی پابندی بھی لازم نہیں رہتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب قانون خود رجسٹریشن کی پابندی عائد نہیں کرتا تو ایسی صورت میں پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا یا اضافی ٹیکس کا سامنا نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جس میں اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا گیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اس ٹیکس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر اب یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔