اسلام آباد ( پاکستان خبر) وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، جس میں قرار دیا گیا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام موجود ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق حکومت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ کی فراہمی پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا تھا، جو مالی سال 2024 کے فنانس ایکٹ کے تحت وصول کیا جا رہا تھا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، اور اس استثنیٰ کے بعد ان پر رجسٹریشن کی پابندی بھی لازم نہیں رہتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب قانون خود رجسٹریشن کی پابندی عائد نہیں کرتا تو ایسی صورت میں پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا یا اضافی ٹیکس کا سامنا نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جس میں اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا گیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اس ٹیکس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر اب یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔
پولٹری فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس غیرقانونی قرار، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان