تازہ ترین
ہائی کورٹس آزاد آئینی ادارے ہیں، ماتحت عدالتیں نہیں: وفاقی آئینی عدالت پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر بلوچستان کے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر ختم کرنے کا فیصلہ وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا بلوچستان میں کاروباری اوقاتِ کار کے نئے قواعد نافذ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈسکوز کی نجکاری: غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی فیفا: ورلڈ کپ میں پانی کی بوتلوں پر پابندی فلسطینی فٹبالرز کی گرفتاری، حراست میں توسیع فرنچ اوپن: سبالینکا کوارٹر فائنل میں باہر پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول
پاکستان خبر

پولٹری فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس غیرقانونی قرار، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

پولٹری فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس غیرقانونی قرار، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

اسلام آباد ( پاکستان خبر) وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، جس میں قرار دیا گیا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام موجود ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق حکومت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ کی فراہمی پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا تھا، جو مالی سال 2024 کے فنانس ایکٹ کے تحت وصول کیا جا رہا تھا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، اور اس استثنیٰ کے بعد ان پر رجسٹریشن کی پابندی بھی لازم نہیں رہتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب قانون خود رجسٹریشن کی پابندی عائد نہیں کرتا تو ایسی صورت میں پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا یا اضافی ٹیکس کا سامنا نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جس میں اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا گیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اس ٹیکس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر اب یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔