تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

پولٹری فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس غیرقانونی قرار، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

پولٹری فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس غیرقانونی قرار، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

اسلام آباد ( پاکستان خبر) وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، جس میں قرار دیا گیا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام موجود ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق حکومت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ کی فراہمی پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا تھا، جو مالی سال 2024 کے فنانس ایکٹ کے تحت وصول کیا جا رہا تھا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، اور اس استثنیٰ کے بعد ان پر رجسٹریشن کی پابندی بھی لازم نہیں رہتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب قانون خود رجسٹریشن کی پابندی عائد نہیں کرتا تو ایسی صورت میں پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا یا اضافی ٹیکس کا سامنا نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جس میں اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا گیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اس ٹیکس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر اب یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔