تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر

امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر

سنگاپور، لندن( کامرس ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں فروخت کا دباؤ بڑھنے سے سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں۔عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو کئی ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تقریباً 4 فیصد اضافے کے ساتھ 82.09 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔دیگر اہم خام تیل کے معیاروں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جہاں مربان کروڈ کی قیمت 80.77 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ کی قیمت 81.81 ڈالر فی بیرل تک ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی اور سیاسی خطرات کے باعث سرمایہ کاروں نے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشے کے پیش نظر خریداری میں اضافہ کیا۔مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات صرف خام تیل تک محدود نہیں رہے بلکہ توانائی کی دیگر مصنوعات بھی مہنگی ہوئیں۔ امریکی گیسولین فیوچرز، ڈچ قدرتی گیس، امریکی نیچرل گیس اور جاپان-کوریا ایل این جی کے نرخوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی تشویش کی بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اگر خطے میں حالات مزید خراب ہوئے تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی کی سپلائی گزرتی ہے۔توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کیا۔ امریکا میں وال اسٹریٹ کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ ہوا، جہاں ایس اینڈ پی 500، ناسڈیک اور ڈاؤ جونز دباؤ کا شکار رہے۔ یورپ میں جرمنی اور فرانس کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جبکہ برطانیہ کی مارکیٹ کو بڑی تیل کمپنیوں کے حصص نے کچھ سہارا دیا۔ایشیا کی مارکیٹوں میں بھی جاپان، جنوبی کوریا اور چین کے اسٹاک ایکسچینجز دباؤ میں رہے، جہاں خاص طور پر ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص متاثر ہوئے۔ماہرین معاشیات کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہیں تو پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں درآمدی بل میں اضافے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، روپے پر دباؤ اور مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔